Showing posts with label Muslim. Show all posts
Showing posts with label Muslim. Show all posts

Tuesday, June 23, 2020

Story of tehseen gul khan's Father in Urdu

میرے والد محترم حمید گُل صاحب کی کہانی میری زبانی 
"میں کیوں والدیں بہن بھائی چھوڑ کر خداوند یسوع مسیح ناصری کے قدموں میں آگیا"
میرے والد محترم کا نام گل حمید خان ولد میجر حیات خان ہے ۔۔ آپ آرمی میں  قابل عزت و باوقار دلیر آفسر تھے  اور آپکی پوسٹنگ کوئٹہ میں کمیشن افیسر  آرمی کے طور پر تھی آپ بتاتے تھے 
 اکثر میں کوئٹہ مشن ہسپتال کے پاس سے گزرتے وقت ہسپتال پر لکھی ہوئی ایک آیت جو انجیل جلیل س تھی دیکھتا تھا جو یہ تھا
 دیکھو میں دنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہو 
(قول خداوند یسوع مسیح ناصری)
اس آیت شریفہ کو دیکھتے ہی میری آنکھِیں اس پر ٹک جاتی اور میں گہری سوچوں کے سمندر میں غرق رہتا کہ اس آیت کے ساتھ حضرت عیسی کا نام مندرج ہے کہ آپ نے یہ فرمایا۔۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے
  صرف ایک نبی جوکہ تمام انبیاء کرام کی ماند  انسان ہے تو  پھر ایسا دعوی کیوں اور کیسے کرسکتا یے 
کہ (میں دنیا کے آخر تک تمہارے ساتھ ہو ) جبکہ یہ دعوی تو صرف اللہ تبارک و تعالی کی زات مبارک ہی کرسکتی ہے میں اسی آیت پر اکثر سوچتا اور یہ آیت کبھی میری سمجھ میں نہ آئی۔  یہ آیت میرے دل میں گھر کرگئ اور میرے ذہن نشین ہوگئ 
اسکے بعد اسی مشن ہسپتال میں ایک پادری صاحب بنام علامہ پادری غلام مسیح نعمان صاحب تھے
 ( آپکی گواہی ہم پہلے پیش کرچکے ہیں) 
جوخود بھی آرمی ائیر فورس میں ملازمت کر چکے تھے اور جب مجھے معلوم ہوا کہ پادری صاحب بھی آرمی سے تھے تو ہماری گفتگو کا سلسلہ بڑھا اور
پادری غلام مسیح صاحب نے  مجھے اپنے گھر گفتگو   اور کھانے کی دعوت کے لئے مدعو کیا 
جب میں علامہ غلام مسیح صاحب کے گھر گیا اور علامہ غلام مسیح صاحب نے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میں مسلمان تھا اور میں  مسیحی لوگوں کی محبت سے بہت متاثر ہوا تب میں نے فیصلہ کیا کہ اب میں حق متلاشی کی طرح تحقیق کرونگا اور بعد از تحقیق میں نے پایا کہ خداوند یسوع مسیح  ہی حقیقی نجات دہندہ یے اور جو مسیحیوں میں محبت ہم دیکھتے یے وہ خداوند یسوع مسیح کے احکامات سے یے اس طرح میں نے اسلام کا کو ترک کر کے ہمیشہ کے لئے  خداوند یسوع مسیح ناصری کے مقدس قدموں میں سر تسلیم خم کردیا اور اب میں مسیحی ہوں۔۔ 
پادری غلام مسیح کی یہ بات سُن کر تو جیسے میرا دل شکنجہ میں آگیا اور اب میرا پادری صاحب کے ساتھ گفتگو کرنے کا بھی بلکل ارادہ نہ تھا اب میں واپس جانا چاہتا تھا مگر پادری صاحب مجھے بارہا کھانے کی پیشکش کرتے رہے ۔۔ لیکن میں کٹر مسلمان ہوتے ہوئے ایک مسیحی کے گھر سے کیسے کھانا کھا سکتا تھا خیر پادری صاحب کے بے حد اصرار پر میں نے ایک شرط پر کھانا کھانے کی حامی بھری کہ اگر کھانا باہر ہوٹل سے آئے گا تو کھاونگا ورنہ نہیں۔
  گفتگو کے بعد علامہ غلام مسیح صاحب نے مجھے  بائبل مقدس تحفہ میں دینا چاہی لیکن میں  نے اُسے قبول نہ کیا 
 آسکے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور کچھ عرصہ کے بعد علامہ غلام صاحب نے مجھے چرچ آنے کی دعوت دی اور وہاں انہوں نے  دوبارہ کتاب مقدس دی اور مطالعہ کرنے کو کہا 
مگر میرے لئے  فوجی بیرک میں بائبل مقدس کا مطالعہ آسان نہ تھا کیونکہ میرے ساتھ میرے مسلمان دوست ہوا کرتے تھے 
 مزید  علامہ غلام مسیح صاحب سے ملاقاتوں کے بعد انکی گفتگو سے میرے دل میں جستجو حق اور شعور پیدا ہوچکا تھا اور میں حق متلاشی بن چکا تھا اور میں نے پُختہ اردہ کرلیا کہ اب میں کتاب مقدس کا مطالعہ لازمی کرونگا ۔۔چونکہ فوجی بیرک میں کتاب مقدس کا مطالعہ میرے لئے مشکل تھا اس لئے میں پہاڑوں میں دریا کے کنارے جاکر چھپ چھپ کر کلام مقدس کا مطالعہ کرتا تھا اور واپس بریک میں آکر کتاب مقدس کو میں لپیٹ کر جوتوں کے خالی ڈبے میں چھپا دیا کرتے  
اسی دوران ایک واقع پیش آیا جس نے میرے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میری پوری زندگی کا رُخ بدل گیا بلکہ اسی واقع کے بعد میں خداوند یسوع مسیح اور کتاب مقدس کے اور قریب ہوگیا 
 یہ واقع کچھ  یُوں ہوا  کہ مشن ہسپتال کے پاس  روڑ پر ایک حادثہ  (ایکسڈینٹ) پیش آیا جس سے ایک چھوٹی بچی جسکا تعلق مسلمان گھرانے سے تھا  بہت زخمی ہوئی اور یہ بچی مشن اسکول کی طالب علم بھی تھی۔  اس بچی کو اسی مشن ہسپتال لیں جایا گیا جب  ڈاکٹرز حضرات نے اس بچی کو خون میں لت پت دیکھا تو کہا اس بچی کو خون کی اشد ضرورت ہے ورگنہ اس بچی کا بچنا نا ممکن یے 
بچی کا بلڈ گروپ اُو نیگٹیو (O Negative) تھا جوکہ وہاں ہسپتال میں موجود لوگوں یعنی ہسپتال کا عملہ اور بچی کا خاندان ان میں کسی کا بلڈ گروپ O Negative نہیں تھا 
 صرف ایک غیر ملکی بزرگ مسیحی  مشنری سسٹر کا تھی جنکا بلڈ گروپ O Negative تھا ۔ 
وہی تھا. خداوند یسوع مسیح کی اس دلیر خادمہ نے جو خداوند یسوع مسیح کی محبت سے لبریز تھی کہا
 اس بچی کو میرا خون لگاو مگر ڈاکٹرز نے کہا سسٹر جی اگر آپکا خون لگایا تو آپکی جان بھی جاسکتی ہے کیونکہ آپ کافی عمر رسیدہ ہے ۔ مگر مسیحی  بزرگ سسٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ جب میں گناہوں میں مر رہی تھی تو میرے  خداوند یسوع مسیح نے میرے لئے اپنی جان دے کر میری زندگی بچائی تو میں اس 
 میں  نے اس خاتون سے پوچھا کے کیا آپ کا اس لڑکی سے کوئی رشتہ ہے، انہوں نے کہا نہیں، میں نے پوچھا کے کیا آپ کے مسلک کی ہیں، انہوں نے کہا نہیں یہ بچی مسلمان ہے اور میں مسیحی ہوں. میں  بہت حیران ہوا  اور کہا کے آپ کیوں اپنی جان خطرے میں ڈال رہی ہیں جبکہ کوئی خاص وجہ نہیں ہے. اس مہربان خاتون کا جواب یہ تھا کے میں بھی یسوع مسیح ناصری کی دشمن تھی گناہ کی وجہ سے اور اس نے میرے لئے جان دی، تو کیا میری زندگی    اس لڑکی جو اس اسکول کی سب سے زہین بچی ہے، اس کے کام آ جائے تو اچھا نہ ہوگا؟ یہ جواب سن کر میں دنگ رہ گیا کے یہ کیسا ایمان ہے، یہ کیسی محبّت ہے؟بچی کی زندگی کیوں نہیں بچا سکتی؟ 
ڈاکٹرز نے کہا ہمیں لکھ کردیجئے تانہ ہو بعد میں کوئی حادثہ پیش آئیں بزرگ سسٹر نے ہستے ہستے لکھ کر دیا اور اپنا خون اس مسلم بچی کے لئے پیش کیا۔  ڈاکٹرز جب آپریشن تھیٹر میں بزرگ سسٹر کا خون بچی کو  لگارہئے تھے تو دیکھا کہ ایک طرف تو بچی ہوش میں آرہی یے مگر جب پلٹ کر دیکھا تو بزرگ سسٹر اپنے خداوند مسیح یسوع میں سوگئ تھی 
مسسیحی بزرگ سسٹر اب اپنے  خالق حقیقی سے جاملی تھی جنکی محبت میں انہوں نے اس مسلم بچی کے لئے اپنا خون پیش کیا تھا 
یہ سارا واقع جب میں نے آپنی آنکھوں سے دیکھا تو میرے پاُوں تلے سے زمین نکل گئ اور میں ہکا بکا رہ گیا اور سوچنے لگا یہ مسیحی لوگ کیسے ہیں۔
اس مسلمان بچی سے انکا کیا رشتہ ہیں ؟ نہ تو یہ بچی انکے مزہب مسیحیت کی ہے بلکہ مسلمان ہے ۔پھر بھی اُس مسیحی بزرگ سسٹر نے ایک مسلمان بچی کے لئے  اپنی جان دی جبکہ وہ جانتی تھی کہ میں مر سکتی ہو ۔۔ یہ مسیحی لوگ کیوں غیر اقوام سے اتنا پیار کرتے ہیں بیماروں اور محتاجوں کا اتنا خیال کیوں رکھتے یے جبکہ ہم مسلمان تو ان مسیحیوں کے گھر کھانا کھانا بھی پسند نہیں کرتے انکے برتن میں پانی پینا پسند نہیں کرتے 
 گل حمید خان صاحب اسکے بعد گھر واپس آے اور بائبل مقدس کھول کر پڑھنے لگئے اور انکے سامنے یہ آیت آئی لکھا ہے خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ راہ حق اور زندگی میں ہو اور جو مسیح میں مر بھی جائے تو بھی ہمیشہ زندہ رہئے گا اور یہ کہ جب تم اپنی جان کو خداوند یسوع مسیح کے لئے کھوتے ہو تو دراصل اسکو پاتے ہو  یہ پڑھنے کے بعد حمید گل صاحب کو سمجھ میں آیا کہ اُس مسیحی بزرگ سسٹر نے اپنی جان کھوئی نہیں بلکہ مسلمان بچی کو بھی بچایا اور اپنی جان بھی بچائی تاکہ وہ ابدتک خداوند یسوع مسیح کے ساتھ ابدی سکونت کریں جیساکہ خداوند یسوع مسیح نے فرمایا یے 
اسکے واقع کے بعد گل حمید خان صاحب علامہ غلام صاحب سے ملے اور کہا کہ میں خداوند یسوع مسیح کے قدموں میں آنا چاہتا ہو اصطباغ لینا چاہتا ہو تو مجھے کیا کرنا ہوگا ؟  علامہ غلام مسیح صاحب کا جواب تھا آپکو کتاب مقدس پر ایمان لانا ہوگا اور خداوند یسوع مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ قبول کرنا ہوگا اور ایمان رکھنا ہوگا کہ خداوند یسوع مسیح نے آپکے گناہوں کی خاطر آپکو بچانے کے لئے  صلیب پر جان دی ہے جس طرح اُس مسیحی بزرگ عورت نے مسلمان بچی کو بچانے کے لئے اپنی جان دی اسکے بعد حمید گل صاحب کو بپتسمہ دیا گیا یہ بات چھپنے والی نہیں تھی جیسے ہی فوجی بیرک میں اسکی خبر ہوئی تو فوجی افسران نے حمید گل صاحب کو مسیحی ہونے پر  کورٹ مارشل کرکہ انکو فوج کی ملازمت سے نکال دیا گیا
 اسی طرح حمید گل صاحب کے بہن بھائیوں والدین نے بھی ان سے منہ موڑ لیا اور آپکو گھر سے بھی بے گھر کر دیا۔ یہ کہہ کر کہ تم اب کافر ہوگئے ہو تم ہمارے ساتھ نہیں رئے سکتے اسکے بعد حمید گل صاحب نے ایک چھوٹی سی دوکان پر ملازمت اختیار کرلئ جہاں وہ صرف ایک مزدور کی حثیت سے کام کرتے تھے اور سارا دن کام کے بعد جب آپکے ہاتھوں میں چھالے پڑجاتے تو مشن ہسپتال کے ڈاکٹرز آپکو معلم لگاتے تاکہ صبع کام کے لئے آپکو آسانی ہو اور درد سے کچھ راحت ملیں۔۔ مگر حمید گُل صاحب نے ساری تکلیف و پریشانی مسکراتے ہوئے گزارئی کیونکہ آپ کو حقیقی خدا مل گیا تھا اور آپ نے اپنی آخرت سوار لئ تھی 
دوکان پر ملازمت کے دوران ایک مرتبہ امام مسجد نے آپکو علامہ غلام مسیح کے ساتھ دیکھا تو کہا تم اس شخص کے ساتھ کیا کررہئے ہوں یہ آدمی لوگوں کو مرتد بناتا ہے کافر بناتا ہے مگر گُل حمید صاحب نے امام مسجد سے کہا کہ میں اپنی مرضی سے مسیحی ہوچکاہو۔ یہ سُنتے ہی امام مسجد شدید غصے سے بھر گئے اور آپ سے کہا کہ تمہارے پاس تین دن کی مہلت ہے تین دن میں دوبارہ اسلام قبول کرو اور اس غلام مسیح سے دوستی ختم کردو ورگنہ تم جانتے ہو کہ اسلام میں مرتد کی سزا صرف و صرف موت ہے امام مسجد کا یہ کہنا تھا تو ایک مرتبہ پھر حمید گل  صاحب نے اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہوئے کہا میں نے میں نے دل  روح جان بدن خداوند یسوع مسیح کے قدموں میں رکھ دی اب جو ہو سو ہو
 تین دن گُزرنے ہی تھے کہ بعد از  نماز جمعہ امام مسجد نے  آپکو مُرتد قرار دے کر آپکے  قتل کا فتوی دیا  اسکے بعد مسلمانوں کی ایک بھیڑ آپکے قتل کے ارادے سے لاٹھیاں اور تلواریں لیں کر نکل آئی مگر جس کو خداوند یسوع مسیح نے چُنا تھا انکو کیسے کوئی زر پہنچاسکتا تھا آپ جس دوکان پر مزدوری کرتے تھے اُس کے مالک کے دل میں خداوند یسوع مسیح نے رحم ڈالا اور اُس نے آپکی بھاگنے میں مدد کی حالانکہ وہ بھی مسلمان ہی تھا
اسکے بعد آپ ڈھاکہ چلیں گئے اور پھر آپکو ڈھاکہ سے بھی واپس آنا پڑا کیونکہ وہ  سن ١٩٧١ تھا اور بنگالی کسی بھی پٹھان پنجابی کو ڈھاکہ میں دیکھتے تو قتل کردیتے  آپ واپس آکر کوئٹہ تو جا نہیں سکتے تھے لہزا آپ لاہور شہر پہنچے اور وہاں پادری ایڈگر خان، نولکھا چرچ لاہور جو خود بھی اسلام کو خیر باد کہہ کر خداوند یسوع مسیح کے قدموں میں آئیں تھے انہوں نے آپکی مدد کی آپکو رہنے کے لئے گھر اور نوکری دلوائی آپ اُنہی کے ساتھ خداوند یسوع مسیح کی خدمت بھی کرتے اب لاہور جیسا آپکا گھر.  ہوگیا تھا لاہور میں ہی آپکو خداوند سے نیک سیرت خاتون بیوی  ملی جو خدا کی طرف سے تحفہ تھی  اسکے بعد خداوند نے آپکو اولاد جیسی نعمت سے بھی نوازہ  آپکے بیٹا ہوا جسکا نام آپ نے تحسین گُل خان رکھا اور حمید گل صاحب اور آپکی اہلیہ نے خداوند سے عہد کیا کہ یہ لڑکا ہم خداوند مسیح کی نظر کرتے یے یہ لڑکا مبشر انجیل ہوگا اور بہت سے لوگوں کو خداوند یسوع مسیح کے قدموں میں لانے کا باعث ٹھہرئے گا 
 آج یہ وہی علامہ پادری تحسین گل صاحب ہے جو کسی تعرف کے محتاج نہیں آپکو امریکا یوکے یورپ انڈیا و پاکستان میں بہتیرے لوگ جانتے یے اور آپکے مدعا ہے آپ خداوند مسیح سے کئے گئے اپنے والدین کے وعدہ کے مطابق خداوند یسوع مسیح کی خدمت مصروف عمل یے 
تشکر علامہ پادری تحسین گُل خان از یوکے 
ایڈمن المسیح کے ایلچی
Thanks Page: Al-Masih Kay Ailchee for this. 

Sunday, July 21, 2019

legal professional confirms divorce between former Malaysian King and Russian spouse



Tony Jones/CC/Wikimedia Commons
the previous King of Malaysia, Sultan Muhammad V's lawyer has tested the former monarch divorced his Russian attractiveness queen spouse in June.
Koh Tien Hua, based mostly in Singapore, launched a press release Saturday saying his forty nine-year-historical customer had "irrevocably divorced" the 27-yr-ancient Russian, Rihana Oksana Voevodina. The ex-miss Moscow denies the divorce announcing she has no talents of any criminal court cases.
"Ms Rihana was informed of the irrevocable divorce on 22 June 2019 via her lawyers Alexander Dobrovinsky & partners of Russia and a copy of the divorce certificate changed into given to her," he referred to.

View this post on Instagram
Bagi ramai orang, kisah pertemuan pertama saya dengan suami saya tetap menjadi misteri. Kami bertemu pada musim bunga 2017 di Eropah. Pada masa itu saya bekerjasama dengan rakan karib kami, Jacob Arabo. Selepas acara itu, kami pergi untuk makan malam, di mana saya berjumpa dengan seorang lelaki, dan beliau memperkenalkan dirinya sebagai Raja Malaysia. Saya menganggap itu sebagai jenaka semata-mata, dan saya pula bergurau bahawa saya juga adalah ratu di Moscow. Kami berbual sepanjang malam dan bertukar nombor telefon. Tidak lama kemudian terdapat berita yang muncul mengenai pelantikan raja, yang merupakan kawan baru saya … untuk diteruskan for many americans, the story of our first meeting with my husband remains to be a secret. We met in spring 2017 in Europe. at that time I cooperated with our standard pal jeweler Jacob Arabo. After the experience, we went for dinner, the place I met a ma n, and he delivered himself as king of Malaysia. I took it as a funny story and joked back that i was additionally the queen of Moscow. We talked all night and exchanged mobile numbers. quickly there have been news looked concerning the appointment of the king, who was my new buddy… to be persevered Для многих людей остаётся загадкой история нашего знакомства с мужем. Это случилось в Европе, весной 2017 года. На тот момент я сотрудничала с нашим общим знакомым ювелиром Джейкобом Арабо. После мероприятия мы отправились на ужин, где я познакомилась с мужчиной, и он представился королем Малайзии. Я восприняла это как шутку и пошутила в ответ, что я тоже королева Москвы. Мы прого� �орили весь вечер и обменялись номерами телефонов. Вскоре в прессе появились новости о назначении короля, которым и был мой новый знакомый… продолжение следует
A put up shared by Rihana Oksana Petra (@rihanapetra) on Jun 18, 2019 at 10:23am PDT
The divorce took region below the Muslim legislation "triple talaq" the place a man divorces his spouse by saying "talaq" thrice on 22 June. Talaq is Arabic for divorce. here's regarded the severest form of divorce in Islam.
After the "triple talaq" in June, his state of Kelantan's Malaysia's sharia court docket issued a divorce certificates under the Islamic family legislations Enactment.
The Sultan of Kelantan's attorney delivered another twist to the story by way of suggesting the Sultan might also no longer be the daddy of the couple's two-month-old son, Tengku Ismail Leon Petra Bin Tengku Muhammad V Faris Petra (b. 21 may 2019). He mentioned, "There isn't any purpose evidence as yet as to the biological father of the infant."
the former King's legal professional delivered, "On behalf of His Royal Highness, we request that his privateness be revered."
despite the fact, his ex-wife spoke to the Malaysiakini asserting that the on-line circulation of the divorce certificates become an "act of provocation," including that the Sultan was "filled with love" for her and their infant. Osaka is at the moment in Russia with her son. She stressed out that they have "certainly not divorced."
Osaka continues to share pictures and videos of her and Mohammad V on her professional Instagram account (which she opened on 3 June) displaying their love and relationship. As these days as three days ago, she shared a video where the couple is talking, in English, about their love and household.
View this publish on Instagram
A publish shared via Rihana Oksana Petra (@rihanapetra) on Jul 17, 2019 at 9:54am PDT
Mohammad V greatly surprised Malaysia through saying his abdication in January of this year. His term as monarch changed into now not as a result of end except 2021.
The couple married in 2018, and a few agree with the wedding prompted his abdication.

Wednesday, July 17, 2019

British born Muslim woman exhibits she changed into compelled to marry her cousin in Pakistan as a teenager

British-born Muslim woman whose folks compelled her to marry her cousin in Pakistan at 17 because she became fitting 'too Western' says it felt like her soul became 'leaving her body'


  • Nyla Khan, 30, from Edinburgh, become 'promised' to marry a cousin in Pakistan
  • mentioned her folks had been 'paranoid' about her becoming too Western 
  • revealed that she turned into forced into marriage whereas on break aged 17 
  • Ran far from home months later, and became subject to abuse from group 
  • Went on to break up, however says some are 'stunned' her folks took her returned


  • Nyla informed BBC Scotland's The nine: 'From there on, it's like your soul leaves your body because you turn into so numb since you have completely no vigour of manage over what is happening.' 
    Nyla Khan, 30, unfolded about being compelled to marry her cousin by using her family unit while on break in Pakistan when she was a teen 
    The 30 year old revealed photographs from her wed ding day, asserting she felt the wedding changed into 'morally incorrect' and that she became left 'feeling numb' 
    Nyla, who turned into born in Scotland, revealed: 'I knew from a very younger age that i used to be promised to my cousin and i all the time felt very uncomfortable about that.'
    'I just felt it was morally wrong. i used to be introduced up with chums who were Western, who had been white, and that they have been like "what?".'
    She endured: 'but I had a really strict upbringing. My folks had been paranoid about me becoming Western. They believe they are protecting you.'
    'To them, out of control is becoming Western. Having a voice, expressing your self, dressing in a different way, looking extra from existence, now not eager to marry your cousin.' 
    Nyla printed that she had a 'very strict' upbringing however men tioned she had have faith in her parents that she would have some autonomy over who she married 
    At 17, she was taken on what she notion become a family holiday to Pakistan. 
    She explained that whereas she understood the promise was in place, she believed that she would subsequently have a decision about no matter if she did get married. 
    She observed: 'I had have faith in my folks. I had have faith in my mother that there would not be a forced marriage, that there could be some sort of  autonomy once I acquired there.
    'however once I got there, it become a distinct story. I awoke to my whole household within the room. and also you understand when your gut just tells you - this is rarely right. after which they simply begun.'
    Nyla claimed she was informed she had 'sinned' and the simplest technique to redeem herself cha nged into via marrying her cousin 
    Nyla explained that her family told her that she had 'sinned' and 'introduced shame on the household'. 
    She printed: '[They said] the only way which you could fix here's to marry your cousin.'
    Nyla mentioned that the hounding continued for the complete day, and he or she struggled to deal with the pressure of her family unit's request.
    She said: 'I kept announcing no, from the morning unless tea time. and they had been nevertheless at it. and i gave in, simply looking them to shut up, simply trying them to be quiet.'
    Nyla ran away from her family unit and noted that she would regularly telephone her mother and never talk, simply to hear her voice 
    She went on: 'From there on, it's like your soul leaves your body since you become so numb. because you have completely no vigor or handle over what is occurring.' 
    Nyla married her cousin, and after five weeks in Pakistan lower back to Scotland.
    a couple of months later, she talked about she ran faraway from her household, explaining: 'I essential to get away, I needed to locate myself, essential the noise to cease, and be me. 
    'however there were instances i might telephone my cellphone and not communicate just to hear my mom's voice.' 
    She spoke of she would be shouted at in the street, as individuals who she thought were friends branded her 'a slut' 
    She referred to: 'I did it for a yr. I obtained a lot of abuse from chums, who were meant to be chums, group members.'
    'i might stroll down the road and they'd factor at you and call you "slut". name your names. despite the fact that you knew you had been a virgin. but all that shouted at you.' 
    After a yr, she observed she was 'completely broken' and again home, stressful permission for a divorce from her parents, and a few years later they agreed. 
    a number of years later, she moved out of the household domestic to analyze at university and pointed out she has been 'an unbiased Muslim girl ever given that.'  
    She called it 'a tough time' but referred to the family had 'put love before religion' and 'had labored via it.'  

    Popular Posts